Darde dil ki to koi tou dua di hoti دردء دل کی کوئی تو دوا دی ہوتی

دل کی کوئی تو دوا دی ہوتی



دل کی کوئی تو دوا دی ہوتی

یا ہجر میں جلنے کی سزا نہ دی ہوتی

تیرا دل موم ہے یا پتهر اے صنم

کچه تو سمجهنے کی وجہ دی ہوتی

مجه پہ یوں طلم پہ طلم جو ڈها رہے ہو تم


کبهی اک رسم پیار کی بهی ادا کی ہوتی

میں تو مر مر کہ جی رہا ہوں اے سنگء دل

مگر جینے کی بهی کوئی تو وجہ دی ہوتی

تیرے ہونٹوں پہ جو تبسم ہے اس کی قسم

تو ینس کہ جان بهی مانگتا اسی وقت ادا کی ہوتی

تم نے جو اوڑا ہے بڑی شان سے یہ ہجر کا لباس

اسے اوڑنے سے قبل اک نظر مجه پر بهی لگا لی ہوتی

میں نے تو جانا تها تجهے محبت میں خدا

ے ظالم اسی بات کی ہی حیاء کی ہوتی


ازقلم: عمر ایم عمر

Post a Comment

Previous Post Next Post